❮
❯
حدیث نمبر: 4234
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مِقْلَاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ انْتُهِيَ بِي إِلَى قَصْرٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ ، فِيهِ فَرَائِصُ مِنْ ذَهَبٍ يَتَلَأْلَأُ ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ ، أَوْ فَأَمَرَنِي فِي عَلِيٍّ بِثَلَاثِ خِصَالٍ : بِأَنَّكَ سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ .
ترجمہ

سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب مجھے آسمان کی طرف معراج کرائی گئی تو مجھے موتیوں کے بنے ہوئے ایک ایسے محل تک پہنچایا گیا جس کے ستون سونے کے تھے اور وہ اپنی چمک دمک بکھیر رہے تھے، پھر میری طرف وحی کی گئی یا مجھے علی (رضی اللہ عنہ) کے متعلق تین اوصاف کا حکم دیا گیا کہ: «بِأَنَّكَ سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ» ”بلا شبہ آپ رسولوں کے سردار، پرہیزگاروں کے پیشوا اور (قیامت کے دن) وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہروں اور روشن اعضاء والوں کے قائد ہیں“۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس میں نصر بن مزاحم عطار نامی راوی ہے جو کہ غالی شیعہ اور محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے، نیز علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ”سید المرسلین“ کے الفاظ منکر ہیں کیونکہ یہ لقب صرف نبی کریم ﷺ کے لیے مختص ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4234
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4693»