المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ مولد سيدنا رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی ولادت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي جَهْمُ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَوْ عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا وُلِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ حَلِيمَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ يَلْتَمِسْنَ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ ، قَالَتْ حَلِيمَةُ : فَخَرَجْتُ فِي أَوَائِلِ النِّسْوَةِ عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ ، وَمَعِي زَوْجِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، أَحَدُ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَاصِرَةَ ، قَدْ أَدِمَتْ أَتَانُنَا ، وَمَعِي بِالرَّكْبِ شَارِفٌ ، وَاللهِ مَا تَبِضُّ بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ ، قَدْ جَاعَ النَّاسُ حَتَّى خَلَصَ إِلَيْهِمُ الْجَهْدُ ، وَمَعِي ابْنٌ لِي ، وَاللهِ مَا يَنَامُ لَيْلَنَا ، وَمَا أَجِدُ فِي ثَدْيَيَّ شَيْئًا أُعَلِّلُهُ بِهِ ، إِلَّا أَنَّا نَرْجُو الْغَيْثَ ، وَكَانَتْ لَنَا غَنَمٌ ، فَنَحْنُ نَرْجُوهَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَمَا بَقِيَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَتْهُ ، فَقُلْنَا : إِنَّهُ يَتِيمٌ ، وَإِنَّمَا يُكْرِمُ الظِّئْرَ وَيُحْسِنُ إِلَيْهَا الْوَالِدُ ، فَقُلْنَا : مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ بِنَا أُمُّهُ أَوْ عَمُّهُ أَوْ جَدُّهُ ، فَكُلُّ صَوَاحِبِي أَخَذَ رَضِيعًا وَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا ، فَلَمَّا لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُهُ ، وَاللهِ مَا أَخَذْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : وَاللهِ لَآخُذَنَّ الْيَتِيمَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ ، وَلَا أَرْجِعُ مِنْ بَيْنِ صَوَاحِبِي وَلَا آخُذُ شَيْئًا ، فَقَالَ : قَدْ أَصَبْتِ ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّحْلَ ، فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ أَتَيْتُ بِهِ الرَّحْلَ فَأَمْسَيْتُ أَفْتِلُ ثَدْيَايَ بِاللَّبَنِ حَتَّى أَرْوَيْتُهُ وَأَرْوَيْتُ أَخَاهُ ، وَقَامَ أَبُوهُ إِلَى شَارِفِنَا تِلْكَ يَلْمَسُهَا ، فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ فَحَلَبَهَا ، فَأَرْوَانِي وَرَوِيَ ، فَقَالَ : يَا حَلِيمَةُ ، تَعْلَمِينَ ، وَاللهِ لَقَدْ أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً ، وَلَقَدْ أَعْطَى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمَا مَا لَمْ نَتَمَنَّ ، قَالَتْ : فَبِتْنَا بِخَيْرِ لَيْلَةٍ شِبَاعًا ، وَكُنَّا لَا نَنَامُ لَيْلَنَا مَعَ صَبِيِّنَا ، ثُمَّ اغْتَدَيْنَا رَاجِعِينَ إِلَى بِلَادِنَا أَنَا وَصَوَاحِبِي ، فَرَكِبْتُ أَتَانِي الْقَمْرَاءَ فَحَمَلْتُهُ مَعِي ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ لَقَطَعْتُ بِالرَّكْبِ ، حَتَّى إِنَّ النِّسْوَةَ لَيَقُلْنَ : أَمْسِكِي عَلَيْنَا ، أَهَذِهِ أَتَانُكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالُوا : إِنَّهَا كَانَتْ أَدِمَتْ حِينَ أَقْبَلْنَا ، فَمَا شَأْنُهَا ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَاللهِ لَقَدْ حَمَلْتُ عَلَيْهَا غُلَامًا مُبَارَكًا ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فَمَا زَالَ يَزِيدُنَا اللهُ تَعَالَى فِي كُلِّ يَوْمٍ خَيْرًا ، حَتَّى قَدِمْنَا وَالْبِلَادُ سَنَةٌ ، فَلَقَدْ كَانَتْ رُعَاتُنَا يُسَرِّحُونَ ، ثُمَّ يُرِيحُونَ ، فَتَرُوحُ أَغْنَامُ بَنِي سَعْدٍ جِيَاعًا ، وَتَرُوحُ غَنَمِي شِبَاعًا بِطَانًا حُفَّلًا ، فَتُحْلَبُ وَنَشْرَبُ ، فَيَقُولُونَ : مَا شَأْنُ غَنَمِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَغَنَمِ حَلِيمَةَ تَرُوحُ شِبَاعًا حُفَّلًا وَتَرُوحُ غَنَمُكُمْ جِيَاعًا ، وَيْلَكُمُ اسْرَحُوا حَيْثُ تَسْرَحُ رِعَاؤُكُمْ ، فَيُسَرِّحُونَ مَعَهُمْ فَمَا تَرُوحُ إِلَّا جِيَاعًا كَمَا كَانَتْ ، وَتَرْجِعُ غَنَمِي كَمَا كَانَتْ ، قَالَتْ : وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِبُّ شَبَابًا مَا يَشِبُّهُ أَحَدٌ مِنَ الْغِلْمَانِ ، يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الْغُلَامِ فِي الشَّهْرِ ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ السَّنَةِ ، فَلَمَّا اسْتَكْمَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَتَيْنِ أَقْدَمْنَاهُ مَكَّةَ ، أَنَا وَأَبُوهُ ، فَقُلْنَا : وَاللهِ لَا نُفَارِقُهُ أَبَدًا وَنَحْنُ نَسْتَطِيعُ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا أُمَّهُ ، قُلْنَا لَهَا : أَيْ ظِئْرُ ، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا صَبِيًّا قَطُّ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ ، وَإِنَّا نَتَخَوَّفُ عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ وَأَسْقَامَهَا ، فَدَعِيهِ ، نَرْجِعُ بِهِ حَتَّى تَبْرَئِي مِنْ دَائِكِ ، فَلَمْ نَزَلْ بِهَا حَتَّى أَذِنَتْ ، فَرَجَعْنَا بِهِ ، فَأَقَمْنَا أَشْهُرًا ثَلَاثَةً أَوْ أَرْبَعَةً ، فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ خَلْفَ الْبُيُوتِ هُوَ وَأَخُوهُ فِي غَنَمٍ لَهُمْ ، إِذْ أَتَى أَخُوهُ يَشْتَدُّ ، وَأَنَا وَأَبُوهُ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَخِي الْقُرَشِيَّ أَتَاهُ رَجُلَانِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ فَأَخَذَاهُ فَأَضْجَعَاهُ فَشَقَّا بَطْنَهُ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُوهُ نَشْتَدُّ ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا قَدِ انْتَقَعَ لَوْنُهُ ، فَلَمَّا رَآنَا أَجْهَشَ إِلَيْنَا وَبَكَى ، قَالَتْ : فَالْتَزَمْتُهُ أَنَا وَأَبُوهُ فَضَمَمْنَاهُ إِلَيْنَا ، فَقُلْنَا : مَا لَكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ فَقَالَ : أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَضْجَعَانِي فَشَقَّا بَطْنِي فَصَنَعَ بِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ رَدَّاهُ كَمَا هُوَ ، فَقَالَ أَبُوهُ : وَاللهِ مَا أَرَى ابْنِي إِلَّا وَقَدْ أُصِيبَ ، الْحَقِي بِأَهْلِهِ فَرُدِّيهِ إِلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا يُتَخَوَّفُ مِنْهُ ، قَالَتْ : فَاحْتَمَلْنَاهُ ، فَقَدِمْنَا عَلَى أُمِّهِ ، فَلَمَّا رَأَتْنَا أَنْكَرَتْ شَأْنَنَا ، وَقَالَتْ : مَا رَجَعَكُمَا بِهِ قَبْلَ أَنْ أَسْأَلَكُمَاهُ ، وَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصَيْنِ عَلَى حَبْسِهِ ؟ فَقُلْنَا : لَا شَيْءَ ، إِلَّا أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ قَضَى الرَّضَاعَةَ ، وَسَرَّنَا مَا تَرَيْنَ ، وَقُلْنَا نُؤَدِّيهِ كَمَا تُحِبُّونَ أَحَبُّ إِلَيْنَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ لَكُمَا لَشَأْنًا ، فَأَخْبِرَانِي مَا هُوَ ؟ فَلَمْ تَدَعْنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا ، فَقَالَتْ : كَلَّا وَاللهِ لَا يَصْنَعُ اللهُ ذَلِكَ بِهِ ، إِنَّ لِابْنِي شَأْنًا ، أَفَلَا أُخْبِرُكُمَا خَبَرَهُ ؟ إِنِّي حَمَلْتُ بِهِ فَوَاللهِ مَا حَمَلْتُ حَمْلًا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ عَلَيَّ مِنْهُ وَلَا أَيْسَرَ مِنْهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ حِينَ حَمَلْتُهُ أَنَّهُ خَرَجَ مِنِّي نُورٌ أَضَاءَ مِنْهُ أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى ، أَوْ قَالَتْ : قُصُورُ بُصْرَى ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ حِينَ وَضَعْتُهُ ، فَوَاللهِ مَا وَقَعَ كَمَا يَقَعُ الصِّبْيَانُ ، لَقَدْ وَقَعَ مُعْتَمِدًا بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَدَعَاهُ عَنْكُمَا ، فَقَبَضَتْهُ وَانْطَلَقْنَا .
4206 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَوْ عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَتْ حَلِيمَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أُمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدِيَّةُ : قَدِمْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
4206 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَنَسَخْتُهُ مِنْ حَدِيثِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَهْمِ ابْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ حَلِيمَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ .سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما (یا ان سے روایت کرنے والے کسی راوی) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ با سعادت ہوئی تو سیدہ حلیمہ بنت حارث رضی اللہ عنہا قبیلہ بنو سعد بن بکر کی چند عورتوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں تشریف لائیں، سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں اپنی ایک خاکستری رنگ کی سست رفتار مادہ گدھی پر سوار ہو کر اپنی ساتھی عورتوں میں سب سے آگے نکلی، میرے ساتھ میرے شوہر حارث بن عبد العزیٰ تھے جو بنو سعد بن بکر اور پھر بنو ناصرہ سے تعلق رکھتے تھے، ہماری گدھی تھک کر پیچھے رہ گئی تھی، اور ہمارے پاس ایک بوڑھی اونٹنی بھی تھی، اللہ کی قسم! قحط زدہ سال کی وجہ سے اس کے تھنوں سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکتا تھا، لوگ بھوک سے نڈھال تھے اور سخت تنگی کا شکار تھے، میرے ساتھ میرا اپنا شیر خوار بچہ بھی تھا، اللہ کی قسم! وہ بھوک کی وجہ سے رات بھر ہمیں سونے نہیں دیتا تھا، اور میرے سینے میں بھی اسے بہلانے کے لیے دودھ کی ایک بوند تک نہ تھی، بس ہمیں اللہ کی رحمت اور بارش کی امید تھی، ہمارے پاس کچھ بکریاں بھی تھیں جن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ تھیں، جب ہم مکہ پہنچے تو ہم میں سے ہر عورت پر رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا گیا لیکن یتیم ہونے کی وجہ سے سب نے آپ ﷺ کو لینے سے ناپسندیدگی ظاہر کی، ہم کہتی تھیں کہ ”یہ تو یتیم بچہ ہے، اور دائی کو صلہ و انعام تو بچے کا باپ ہی دیتا ہے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے، بھلا اس کی ماں، چچا یا دادا ہمارے ساتھ کیا کر سکیں گے؟“ چنانچہ میری تمام سہیلیوں نے کوئی نہ کوئی بچہ لے لیا سوائے میرے، مجھے کوئی اور بچہ نہ ملا، جب مجھے آپ ﷺ کے علاوہ کوئی دوسرا بچہ نہ ملا تو میں نے واپس جا کر آپ ﷺ ہی کو حاصل کر لیا، اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ کو صرف اس لیے لیا تھا کہ مجھے کوئی اور بچہ نہیں ملا تھا، میں نے اپنے شوہر سے کہا: ”اللہ کی قسم! میں بنو عبد المطلب کے اس یتیم بچے ہی کو لے لیتی ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ذریعے نفع عطا فرمائے گا، اور یہ مجھے پسند نہیں کہ میں اپنی سہیلیوں کے درمیان سے خالی ہاتھ واپس جاؤں۔“ انہوں نے کہا: ”تم نے درست فیصلہ کیا ہے۔“ سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو لیا اور اپنے خیمے میں لے آئی، اللہ کی قسم! ابھی میں آپ ﷺ کو لے کر اپنی قیام گاہ پر پہنچی ہی تھی کہ میرے دونوں پستان دودھ سے لبریز ہو گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کو بھی سیراب کیا اور آپ ﷺ کے رضاعی بھائی (میرے بیٹے) کو بھی خوب پلایا، پھر آپ ﷺ کے رضاعی والد اپنی اس بوڑھی اونٹنی کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ دودھ سے بھری کھڑی ہے، انہوں نے اس کا دودھ دوہا تو میں نے اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر پیا، میرے شوہر کہنے لگے: ”اے حلیمہ! اللہ کی قسم! تم جان لو کہ تم نے ایک انتہائی مبارک ہستی کو حاصل کر لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی برکت سے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جس کی ہم تمنا بھی نہیں کر سکتے تھے۔“ سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ وہ رات ہم نے بڑی خیر و برکت کے ساتھ شکم سیر ہو کر گزاری، حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے رونے کی وجہ سے سو نہیں پاتے تھے، پھر صبح ہم اپنے علاقے کی طرف واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو میں نے اپنی اسی مادہ گدھی پر آپ ﷺ کو اپنے ساتھ بٹھا لیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں حلیمہ کی جان ہے! میری اس گدھی نے پورے قافلے کو پیچھے چھوڑ دیا، یہاں تک کہ عورتیں مجھ سے کہنے لگیں: ”اے حلیمہ! ذرا ہمارے لیے ٹھہرو، کیا یہ وہی گدھی ہے جس پر تم آئی تھیں؟“ میں نے کہا: ”ہاں! اللہ کی قسم، یہ وہی ہے۔“ وہ کہنے لگیں: ”آتے وقت تو یہ بہت لاغر اور پیچھے رہنے والی تھی، اب اسے کیا ہو گیا ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے اس پر ایک انتہائی مبارک بچے کو سوار کیا ہے۔“ سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے گھر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ مسلسل ہماری خیر و برکت میں اضافہ فرماتا رہا، حالانکہ وہ علاقہ سخت قحط زدہ تھا، ہمارے چرواہے جب بکریاں چرا کر واپس لاتے تو بنو سعد کی دیگر بکریاں بھوکی ہوتیں جبکہ میری بکریاں پیٹ بھر کر اور دودھ سے بھرے تھنوں کے ساتھ واپس آتیں، ہم ان کا دودھ دوہتے اور پیتے تھے، دوسرے لوگ حیران ہو کر اپنے چرواہوں سے کہتے: ”حارث بن عبد العزیٰ اور حلیمہ کی بکریوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سیر ہو کر آتی ہیں اور تمہاری بکریاں بھوکی رہتی ہیں؟ تمہارا برا ہو! تم وہیں کیوں نہیں چراتے جہاں ان کے چرواہے چراتے ہیں؟“ چنانچہ وہ اپنے چرواہوں کو بھی وہیں بھیجتے جہاں میرے چرواہے ہوتے، لیکن ان کی بکریاں پھر بھی بھوکی ہی واپس آتیں اور میری بکریاں پہلے کی طرح سیر ہو کر لوٹتیں، سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح پروان چڑھ رہے تھے جیسے عام بچے نہیں بڑھتے، آپ ﷺ ایک دن میں اتنا بڑھتے جتنا دوسرا بچہ مہینے میں، اور ایک مہینے میں اتنی نشوونما پاتے جتنی دوسرا بچہ سال بھر میں پاتا ہے، جب آپ ﷺ کے دو سال مکمل ہو گئے تو میں اور ان کے رضاعی والد آپ ﷺ کو مکہ لے کر آئے، ہم نے آپس میں طے کیا تھا کہ جب تک بس میں ہوا ہم آپ ﷺ کو خود سے جدا نہیں کریں گے، جب ہم آپ ﷺ کی والدہ کے پاس پہنچے تو ہم نے ان سے عرض کی: ”اے محترمہ! اللہ کی قسم! ہم نے اس بچے سے بڑھ کر با برکت بچہ کبھی نہیں دیکھا، ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں مکہ کی وبائیں اور بیماریاں اسے نقصان نہ پہنچائیں، اس لیے آپ اسے ہمارے ساتھ ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ آپ اس (وباء کے خطرے) سے مطمئن ہو جائیں۔“ ہم ان سے مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں اجازت دے دی، چنانچہ ہم آپ ﷺ کو واپس لے آئے، ہم ابھی تین یا چار ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن آپ ﷺ اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ گھروں کے پیچھے اپنی بکریوں میں کھیل رہے تھے کہ اچانک آپ ﷺ کا بھائی دوڑتا ہوا آیا، میں اور اس کے والد گھر میں تھے، اس نے آ کر بتایا: ”میرے اس قریشی بھائی کے پاس سفید لباس والے دو آدمی آئے، انہوں نے اسے پکڑ کر لٹایا اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔“ میں اور اس کے والد تیزی سے دوڑتے ہوئے باہر نکلے تو دیکھا کہ آپ ﷺ کھڑے ہیں اور آپ ﷺ کا رنگ بدلا ہوا ہے، جب آپ ﷺ نے ہمیں دیکھا تو ہماری طرف لپکے اور رونے لگے، سیدہ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں نے اور ان کے والد نے آپ ﷺ کو سینے سے لگا لیا اور پوچھا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہوا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے مجھے لٹایا اور میرا پیٹ چاک کر کے اس میں کچھ کیا اور پھر اسے ویسا ہی کر دیا جیسا وہ پہلے تھا۔“ یہ سن کر آپ ﷺ کے رضاعی والد نے کہا: ”اے حلیمہ! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس بچے پر کسی چیز کا اثر ہوا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے پاس لے چلو اس سے پہلے کہ کوئی ایسی بات ظاہر ہو جس کا ہمیں ڈر ہے۔“ چنانچہ ہم آپ ﷺ کو لے کر ان کی والدہ کے پاس پہنچ گئے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو ہماری اچانک واپسی پر حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا: ”تم اسے مانگنے سے پہلے ہی کیوں واپس لے آئے، جبکہ تم تو اسے اپنے پاس رکھنے کے بہت حریص تھے؟“ ہم نے کہا: ”ایسی کوئی خاص بات نہیں، بس اللہ تعالیٰ نے ان کی رضاعت کی مدت پوری فرما دی ہے، اور ہمیں ان کی جو حالت نظر آئی اس سے ہم خوش ہیں، اس لیے ہم نے سوچا کہ ان کی امانت ان کے گھر والوں کو بحفاظت لوٹا دینا ہی بہتر ہے۔“ آپ ﷺ کی والدہ نے کہا: ”نہیں! تمہاری کوئی اور بات ضرور ہے، مجھے سچ بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے؟“ انہوں نے پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے انہیں پوری بات بتا دی، انہوں نے کہا: ”ہرگز نہیں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اس بچے کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کبھی نہیں کرے گا، میرے اس بیٹے کی تو بڑی عظیم شان ہے، کیا میں تمہیں اس کی خبر نہ دوں؟ جب میں اس کے ساتھ حاملہ ہوئی تو اللہ کی قسم! مجھے کبھی حمل کا وہ بوجھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوئی جو عام طور پر عورتوں کو ہوتی ہے، پھر جب وہ میرے پیٹ میں تھا تو میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک ایسا نور نکلا جس سے بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں (یا فرمایا بصریٰ کے محلات) روشن ہو گئے، پھر جب اس کی ولادت ہوئی تو اللہ کی قسم! وہ اس طرح پیدا نہیں ہوا جیسے عام بچے پیدا ہوتے ہیں، بلکہ وہ زمین پر اپنے ہاتھوں کا سہارا لیے ہوئے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے پیدا ہوا، اب تم اسے میرے پاس ہی چھوڑ دو۔“ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے پاس رکھ لیا اور ہم واپس آ گئے۔
امام احمد نے کہا: ہمیں وہب بن جریر بن حازم نے حدیث بیان کی، ہمیں ان کے والد نے، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن اسحاق کو کہتے سنا کہ مجھے جہم بن ابی جہم نے حدیث بیان کی، وہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے یا اس شخص سے جس نے عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی... (پھر مکمل حدیث ذکر کی)۔
یحییٰ بن آدم نے ابن ادریس سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے جہم بن ابی جہم سے، انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما (یا ان سے روایت کرنے والے کسی راوی) سے، انہوں نے سیدہ حلیمہ بنت حارث سعدیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا: میں بنو سعد بن بکر کے چند لوگوں کے ساتھ آئی... (آگے پچھلی حدیث کے ہم معنی ذکر کیا)۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں مسروق بن مرزبان اور حسن بن حماد نے حدیث بیان کی، میں نے اسے مسروق کی حدیث سے نقل کیا، وہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ سے، وہ محمد بن اسحاق سے، وہ جہم بن ابی جہم سے، وہ سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے اور وہ سیدہ حلیمہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ... پھر انہوں نے اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔