المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصحابة والتابعين عَلَى الْإِجْمَالِ باب: صحابہ اور تابعین کی عمومی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4157
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي نُسَيْرُ بْنُ ذُعْلُوقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم محمد «صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”اللہ تعالیٰ ان پر درود اور سلامتی نازل فرمائے“ کے صحابہ کو ہرگز برا بھلا نہ کہو، کیونکہ ان میں سے کسی ایک کا (دین کی خاطر یا رسول اللہ ﷺ کی معیت میں) کچھ دیر کے لیے قیام کرنا تم میں سے کسی شخص کی پوری زندگی کی عبادت اور نیک اعمال سے کہیں زیادہ فضیلت و برتری رکھتا ہے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ (15) میں اور ابن ابی عاصم نے السنۃ (1006) میں روایت کیا ہے، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔