المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ باب: بکر بن وائل۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ : إِنَّ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ خُرَاسَانَ : إِنَّ الْمُشْرِكِينَ - يَعْنِي - قَدْ تَكَاثَرُوا عَلَيْهِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : أَنِ اجْعَلْ بَكْرَ بْنَ وَائِلٍ يَلُونَهُمْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ الْعَدُوَّ لَا يَظْهَرُ عَلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ .اہلِ کوفہ کے ایک بزرگ سے روایت ہے کہ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے خراسان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب مکتوب روانہ کیا کہ مشرکین کی ایک کثیر تعداد ان پر ٹوٹ پڑی ہے (یعنی انہوں نے مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے)، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط لکھا کہ: ”تم قبیلہ بکر بن وائل کے جنگجوؤں کو ان کے مدمقابل (صفِ اول میں) کر دو، کیونکہ بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دشمن کبھی بھی بکر بن وائل پر غالب نہیں آ سکے گا“۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں امیہ بن بسطام نے، انہیں معتمر نے اور انہیں مسلمہ بن محارب نے یہ حدیث بیان کی (یہ روایت بکر بن وائل کے فضائل کے ذیل میں ذکر کی گئی ہے)۔