❮
❯
حدیث نمبر: 4150
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ هُوَ ابْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةً مِنْ أَعْرَابِيٍّ ، فَجَاءَتْهُ أُمُّ سُنْبُلَةَ الْأَعْرَابِيَّةُ بِقَعْبِ لَبَنٍ أَهْدَتْهُ لَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْرِغِي مِنْهُ فِي هَذَا الْقَعْبِ ، فَأَفْرَغَتْهُ ، فَتَنَاوَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَنْتَ قُلْتَ : لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةً مِنْ أَعْرَابِيٍّ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَعْرَابَ أَسْلَمَ لَيْسُوا بِأَعْرَابٍ ، وَلَكِنَّهُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا ، وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ ، إِنْ دَعَوْنَا أَجَبْنَاهُمْ ، وَإِنْ دَعَوْنَاهُمْ أَجَابُوا .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”میں کسی بدوی (دیہاتی) کا ہدیہ قبول نہیں کرتا“، پھر (ایک مرتبہ) ام سنبلہ اعرابیہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر حاضر ہوئیں اور وہ آپ ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس (دودھ) میں سے کچھ اس پیالے میں انڈیل دو“، چنانچہ انہوں نے اسے انڈیل دیا، پھر آپ ﷺ نے اسے تھام لیا اور نوش فرمایا۔ میں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ نے تو فرمایا تھا کہ ”میں کسی بدوی کا ہدیہ قبول نہیں کرتا“؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قبیلہ اسلم کے بدوی (عام) دیہاتیوں کی طرح نہیں ہیں، بلکہ وہ ہمارے دیہاتی لوگ ہیں اور ہم ان کے شہری ہیں، اگر وہ ہمیں بلائیں تو ہم ان کی دعوت قبول کرتے ہیں اور اگر ہم انہیں بلائیں تو وہ (ہماری آواز پر) لبیک کہتے ہیں“۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن اسحاق موجود ہیں جنہوں نے سماع کی تصریح کی ہے، جس سے روایت کی صحت کی تائید ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7261، وأخرجه مسند أحمد برقم: 25650، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4773، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1491، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6184، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 1734»