المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، رَوَاهُ الشَّيْخَانِ وَغَيْرُهُمَا مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ فِي الْإِسْنَادِ الَّذِي سُقْنَاهُ ثَابِتٌ ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ مِثْلِ النَّضْرِ مَعَ حِفْظِهِ وَإِتْقَانِهِ مَقْبُولَةٌ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انصار کے قبیلوں میں سب سے بہتر بنو نجار ہیں، پھر بنو عبد الاشہل، پھر بنو حارث (بن خزرج) اور پھر بنو ساعدہ کا درجہ ہے، اور (حقیقت یہ ہے کہ) انصار کے تمام ہی گھرانوں میں خیر و بھلائی موجود ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے غندر کے واسطے سے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اپنی سند میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا، جبکہ ہمارے پیش کردہ اس اسناد میں ان کا ذکر ثابت ہے، اور نضر بن شمیل جیسے صاحبِ حفظ و اتقان راوی کی جانب سے اس طرح کی علمی زیادتی اور اضافہ مکمل طور پر مقبول ہے۔