المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَنُو عَامِرٍ وَبَنُو تَمِيمٍ باب: بنو عامر اور بنو تمیم۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ : مَرْحَبًا بِكُمْ ، أَنْتُمْ مِنِّي .
4145 \ 2 - قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ نَحْوَهُ .
4145 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ بِهِ .سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور بنو عامر کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم بنو عامر سے ہیں، تو آپ ﷺ نے کمالِ شفقت سے ارشاد فرمایا: ”تمہیں مرحبا ہو، تم تو مجھ سے ہی ہو (یعنی میرے اپنے اور قریبی ہو)۔“
امام مسدد نے بیان کیا کہ ہمیں ابو معاویہ نے حجاج سے، انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ) سے یہ روایت بیان کی۔ امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہ ہمیں عباد بن عوام نے حجاج کے واسطے سے اسی کی مثل روایت کیا، اور امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابو خیثمہ نے ابن نمیر سے اور انہوں نے حجاج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔