المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب أبي ذر رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4080
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيِّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : عُوَيْمِرٌ حَكِيمُ أُمَّتِي ، وَجُنْدُبٌ طَرِيدُ أُمَّتِي ، يَعِيشُ وَحْدَهُ ، وَيَمُوتُ وَحْدَهُ ، وَاللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْعَثُهُ وَحْدَهُ .ترجمہ
ابومثنی ملیکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لاتے تو ارشاد فرماتے: ”عُوَیمِر (سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ) میری امت کے صاحبِ حکمت اور دانا شخص ہیں، اور جندب (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ) میری امت کے جلا وطن شخص ہیں، وہ اکیلے ہی زندگی بسر کریں گے، اکیلے ہی انہیں موت آئے گی اور اللہ عزوجل (قیامت کے دن) انہیں تنہا (ایک مستقل امت کی حیثیت سے) ہی اٹھائے گا۔“
مسند الحارث (بغية الباحث): 4080، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا کہ اس کی سند میں ابومثنی ملیکی ضعیف راوی ہے۔