المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ حذيفة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِي ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَجُلٍ فَجَعَلْتُ أَدْعُو وَأَنَا مُمْسِكٌ بِحَصَاةٍ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ : إِذَا سَأَلْتَ رَبَّكَ فَلَا تُمْسِكْ بِيَدِكَ الْحَجَرَ ، فَلَمَّا سَمِعْتُهُ ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ اسْتَأْنَسْتُ إِلَيْهِ ، وَانْتَسَبْتُ إِلَيْهِ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي فَقَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ وَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَبَشَّرَهُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ لَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُهُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ ، وَحُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسٌ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ فِي خَيْرٍ أَوْ إِلَى خَيْرٍ .
4056 \ 2 - وَبِهِ إِلَى مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَجُلٍ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَيْنَ أَنَا ؟ .. فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا مِنَ الْأَوَّلِ .معمر بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں اس حالت میں دعا مانگ رہا تھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کنکری تھی، وہ شخص میری طرف متوجہ ہوا اور کہا: ”اے ابو عبداللہ! بے شک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم اپنے رب سے سوال کرو تو اپنے ہاتھ میں پتھر (کنکری) نہ تھاما کرو۔“ معمر کہتے ہیں کہ جب میں نے سنا کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا ہے تو مجھے ان سے دلی انسیت محسوس ہوئی اور میں نے انہیں اپنا تعارف کرایا، چنانچہ انہوں نے مجھے حدیث بیان کرنا شروع کی اور بتایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرمائی اور جنت کی خوشخبری دی۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں بھی اجازت دی اور جنت کی بشارت سنائی۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے انہیں بھی اجازت مرحمت فرمائی اور خوشخبری سے نوازا۔ پھر ایک اور صاحب آئے، جن کا نام اگر میں چاہوں تو بتا سکتا ہوں، آپ ﷺ نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی نوید سنائی۔ اس وقت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ وہاں تشریف فرما تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا مقام و مرتبہ کہاں ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم خیر و بھلائی پر ہو یا تم خیر ہی کی طرف ہو۔“
اسی سند کے ساتھ معمر بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے پہلو میں نماز پڑھی، اس نے انہیں بتایا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے عرض کی: میرا مقام کیا ہے؟ پھر راوی نے پہلی حدیث کے مفہوم کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا۔