المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ بشير بن الخصاصية رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنِ الْجَهْدَمَةِ امْرَأَةِ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : مِنْ رَبِيعَةَ الْفَرَسِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَوْلَاهُمُ انْتَقَلَتِ الْأَرْضُ بِأَهْلِهَا ، أَحْمَدُ اللهَ الَّذِي مَنَّ عَلَيْكَ مِنْ بَيْنِ رَبِيعَةَ .سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ جہدمہ رضی اللہ عنہا سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”میں ربیعہ سے ہوں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ربیعہ الفرس (گھوڑوں والے ربیعہ) سے ہو؟ جن کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اپنے بسنے والوں سمیت الٹ پلٹ جاتی۔ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس نے پورے قبیلہ ربیعہ میں سے خاص تم پر اپنا فضل و احسان فرمایا (کہ تمہیں اسلام کی دولت سے نوازا)۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔