المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ - عَنْ عَمِّهِ - هُوَ يَحْيَى بْنُ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : وَلَمْ أَرَ فِينَا رَجُلًا يُشْبِهُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَمِعَ نِدَاءَ الْجَمَاعَةِ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ ثَلَاثًا ثُمَّ سَمِعَ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ ثَلَاثًا طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ فَجُعِلَ قَلْبُهُ قَلْبَ مُنَافِقٍ " .یحییٰ بن اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ (جن کے متعلق ان کے بھتیجے محمد بن عبدالرحمٰن کا قول ہے کہ میں نے اپنی قوم میں ان جیسا باکمال شخص نہیں دیکھا) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے باجماعت نماز کے لیے دی جانے والی پکار (اذان) کو سنا اور پھر تین مرتبہ (بغیر کسی شرعی عذر کے) اس میں حاضر نہ ہوا، پھر دوبارہ (اذان) سنی اور پھر تین مرتبہ حاضر نہ ہوا، تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیا جاتا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی یحییٰ بن اسعد بن زرارہ کا نبی کریم ﷺ سے یہ بیان مرسل ہے کیونکہ ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے، تاہم اس سخت وعید کا مفہوم دیگر مستند احادیث و شواہد سے بھی ثابت ہے۔