المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أبي طلحة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةٌ ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا فَقَالَ : أَلَا أَرَى رَبِّي يَسْتَنْفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا ؟ جَهِّزُونِي . فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ : قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَنَحْنُ نَغْزُو عَنْكَ . قَالَ : جَهِّزُونِي . فَجَهَّزُوهُ ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ حَتَّى مَاتَ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُوهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ .
4026 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ بِهِ .
* صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورہ براءت کی تلاوت فرمائی، جب وہ اس آیت ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] پر پہنچے تو کہنے لگے: ”کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ میرا رب مجھے جوانی اور بڑھاپے (ہر حال) میں کوچ کرنے کا حکم دے رہا ہے؟ تم لوگ میرا سامانِ سفر تیار کرو۔“ ان کے بیٹوں نے عرض کیا: ”آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہوگئی، پھر آپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی وفات پاگئے، پھر آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی شریکِ جہاد رہے، لہٰذا اب آپ کی جگہ ہم جہاد کر لیں گے۔“ انہوں نے (اصرار کرتے ہوئے) فرمایا: ”میرا سامانِ سفر تیار کرو۔“ چنانچہ انہوں نے ان کا سامان تیار کر دیا، پھر وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے اور اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا، تدفین کے لیے سات دن تک انہیں کوئی جزیرہ میسر نہ آ سکا، پھر جب سات دن بعد انہیں دفن کیا گیا تو ان کے جسدِ مبارک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن سلام نے، انہیں حماد نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔ امام ابنِ حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔