المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَأَنَا جَالِسَةٌ عِنْدَ الْبَابِ ، فَاطَّلَعْتُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُ شَيْئًا بِكَفِّهِ ، وَالصَّبِيُّ نَائِمٌ عَلَى بَطْنِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُكَ تُقَلِّبُ شَيْئًا بِكَفِّكَ وَالصَّبِيُّ نَائِمٌ عَلَى بَطْنِكَ وَدُمُوعُكَ تَسِيلُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي بِالتُّرْبَةِ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتَكَ يَقْتُلُونَهُ .ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس گھر کے اندر تشریف لائے جبکہ میں دروازے کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، پس میں نے اندر جھانک کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ اپنی ہتھیلی میں کسی چیز کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے اور وہ بچہ آپ ﷺ کے شکمِ اطہر پر سویا ہوا تھا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی میں کسی چیز کو الٹ پلٹ رہے ہیں جبکہ بچہ آپ کے شکمِ مبارک پر سویا ہوا ہے اور آپ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”درحقیقت جبریل (علیہ السلام) میرے پاس وہ مٹی لے کر آئے ہیں جس زمین پر اسے شہید کیا جائے گا، اور انہوں نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ یقیناً آپ کی امت اسے قتل کر دے گی۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (3971) میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللهُ بِهِ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
قُلْتُ : هُوَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍحسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صلح اور اصلاح فرمائے گا۔“
میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث صحیح بخاری میں ایک دوسرے طریق سے حسن بصری ہی کے واسطے سے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔