المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فَيَجِيءُ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَيَرْكَبُ عَلَى ظَهْرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُطِيلُ السُّجُودَ ، فَيُقَالُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ ؟ ! فَيَقُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْتَحَلَنِي ابْنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعْجِلَهُ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں سجدہ فرماتے تو (سیدنا) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما تشریف لاتے اور آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر سوار ہو جاتے، جس کی وجہ سے آپ ﷺ سجدہ طویل کر دیتے؛ چنانچہ آپ ﷺ سے عرض کیا جاتا: ”اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سجدہ طویل کر دیا تھا؟“ تو رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے: ”میرے بیٹے نے مجھے اپنی سواری بنا لیا تھا، اس لیے میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اسے (نیچے اتارنے میں) جلدی کروں۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور دیگر شواہد و متابعات کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے۔