❮
❯
حدیث نمبر: 397
[ وَقَالَ] مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ ، عَنْ حُجَيْرَةَ بِنْتِ حُصَيْنٍ ، قَالَتْ : ( أَمَّتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْعَصْرِ ، فَقَامَتْ بَيْنَنَا ) .
ترجمہ

سیدہ حجیرہ بنت حصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، تو وہ (بجائے مرد امام کی طرح مصلے پر آگے کھڑے ہونے کے) ہمارے درمیان (یعنی پہلی صف کے وسط میں) کھڑی ہوئیں۔“
اس روایت کی سند حسن ہے، اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں اور امام ابن ابی شیبہ نے اپنے المصنف میں روایت کیا ہے؛ یہ اثر اس فقہی مسئلے کی دلیل ہے کہ جب کوئی خاتون عورتوں کی جماعت کرائے تو وہ صف سے آگے بڑھ کر کھڑی ہونے کے بجائے مقتدی عورتوں کے درمیان میں کھڑی ہو گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 397
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف صحيح »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5440، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1508، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 397، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5082، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 4988، 4989»