المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3968
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثَنَا حُسَيْنٌ - يَعْنِي الْأَشْقَرَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَلَى عَاتِقَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : نِعْمَ الْفَرَسُ تَحْتَكُمَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَنِعْمَ الْفَارِسَانِ هُمَا .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کے مبارک کندھوں پر سوار دیکھا، تو میں نے (انہیں مخاطب کر کے) عرض کیا: ”تمہارے نیچے کتنی ہی بہترین سواری ہے!“ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور یہ دونوں بھی تو کتنے ہی بہترین شہسوار ہیں!“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسین بن حسن اشقر نامی راوی پر محدثین نے جرح کی ہے، تاہم اس مفہوم کی دیگر روایات کتبِ حدیث میں شواہد کے طور پر موجود ہیں۔