المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3967
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ حُسَيْنٌ - وَوَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى قَدَمَيْهِ .. الْحَدِيثَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میری آنکھ نے بچشمِ خود مشاہدہ کیا اور میرے کان نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا کہ آپ ﷺ نے سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا - اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہی تھے - اور آپ ﷺ نے ان کے دونوں پاؤں اپنے قدموں پر رکھ لیے تھے۔“
تخریج: اسے امام بخاری نے ’الادب المفرد‘ (رقم: 247) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔