المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : رَفَعَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَوْتَهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : لِأَيِّ شَيْءٍ رَفَعْتَ صَوْتَكَ وَقَدْ شَهِدْتُ بَدْرًا وَلَمْ تَشْهَدْ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُبَايِعْ ، وَفَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ ؟! قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَّا قَوْلُكَ : " إِنَّكَ شَهِدْتَ بَدْرًا وَلَمْ أَشْهَدْ " فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَنِي عَلَى بِنْتِهِ ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ ، وَأَعْطَانِي أَجْرِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ : " بَايَعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أُبَايِعْ " فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَقَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا احْتُبِسْتُ ضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِعُثْمَانَ " ، وَشِمَالُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ : " فَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ " فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ .. الْآيَةَ ، فَلِمَ تُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ؟!
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا سَلَّامٌ .سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی آواز بلند کی، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ نے کس بنا پر مجھ پر آواز بلند کی ہے؟ حالانکہ میں غزوۂ بدر میں شریک تھا اور آپ موجود نہ تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی تھی اور آپ نے بیعت نہیں کی تھی، اور آپ غزوۂ احد کے دن میدان سے پیچھے ہٹ گئے تھے جبکہ میں ثابت قدم رہا تھا؟“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”رہی تمہاری یہ بات کہ ”تم بدر میں حاضر تھے اور میں غائب تھا“ تو (حقیقت یہ ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی صاحبزادی (کی بیماری کی وجہ سے ان کی تیمارداری کے لیے) پیچھے چھوڑ دیا تھا، پھر آپ ﷺ نے مالِ غنیمت میں میرا حصہ بھی مقرر فرمایا اور مجھے اس کا اجر بھی عطا کیا؛ اور تمہارا یہ کہنا کہ ”تم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور میں نے نہیں کی“ تو (تمہیں یاد ہونا چاہیے کہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے مشرکین کی ایک جماعت کی طرف (سفیر بنا کر) بھیجا تھا اور تمہیں یہ بات بخوبی معلوم ہے، پھر جب مجھے وہاں روک لیا گیا (اور بیعتِ رضوان کا موقع آیا) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے“، اور رسول اللہ ﷺ کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے کہیں زیادہ برتر و مبارک ہے؛ رہا تمہارا یہ اعتراض کہ ”میں احد کے دن پیچھے ہٹ گیا تھا اور تم نہیں ہٹے تھے“ تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ﴾ [سورة آل عمران: 155] ”بیشک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پھر گئے جس دن دو جماعتوں کا مقابلہ ہوا تھا، انہیں شیطان نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے پھسلایا تھا، اور یقیناً اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے“، لہٰذا تم مجھے اس خطا کا طعنہ کیوں دیتے ہو جسے اللہ تعالیٰ (خود قرآن میں) معاف فرما چکا ہے؟“
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں کہ علی بن زید سے اس حدیث کو سلام (ابو المنذر) کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہو۔