المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصُّفُوفِ باب: نماز کی صفوں کا بیان۔
[ قَالَ مُسَدَّدٌ ] : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( كَانَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُصَلِّينَ مَعَ الرِّجَالِ فِي الصَّفِّ ، فَاتَّخَذْنَ قَوَالِبَ يَتَطَاوَلْنَ بِهَا ، تَنْظُرُ إِحْدَاهُنَّ إِلَى صَدِيقِهَا ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهِنَّ الْحَيْضُ فَأُخِّرْنَ . قَالَ عَبْدُ اللهِ : فَأَخِّرُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ) .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”بنی اسرائیل کی عورتیں مردوں کے ساتھ صفوں میں کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتی تھیں، پھر انہوں نے لکڑی کے ایسے قالب (اونچے پائے والے جوتے) بنا لیے جن کے ذریعے وہ اپنے قد کو لمبا ظاہر کرتی تھیں تاکہ ان میں سے کوئی عورت اپنے کسی شناسائی رکھنے والے (مرد) کو دیکھ سکے، چنانچہ ان پر (بطورِ سزا) حیض مسلط کر دیا گیا اور انہیں (نماز اور مسجد سے) پیچھے ہٹا دیا گیا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پس تم بھی انہیں وہیں پیچھے رکھو جہاں اللہ عزوجل نے انہیں پیچھے رکھا ہے۔“
یہ روایت موقوف صحیح ہے، اس کی سند قوی ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ (5113) اور عبدالرزاق (5114) نے بھی اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔