❮
❯
حدیث نمبر: 3892
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : صَعِدْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقُلْتُ : انْزِلْ عَنْ مِنْبَرِ أَبِي ، وَاذْهَبْ إِلَى مِنْبَرِ أَبِيكَ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ أَبِي لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْبَرٌ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : ثُمَّ أَخَذَنِي - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلْتُ أَقْلِبُ حَصًى فِي يَدِي ، فَلَمَّا نَزَلَ ذَهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ : مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ فَقُلْتُ : مَا أَمَرَنِي بِهَذَا أَحَدٌ ، قَالَ : جَعَلْتَ تَغْشَانَا ، جَعَلْتَ تَأْتِينَا ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ يَوْمًا ، وَهُوَ خَالٍ بِمُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَجَعَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ رَجَعَ رَجَعْتُ ، فَلَقِيَنِي بَعْدُ ، فَقَالَ : لَمْ أَرَكَ تَأْتِينَا ؟ فَقُلْتُ : قَدْ جِئْتُ ، وَكُنْتَ خَالِيًا بِمُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَجَعَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ رَجَعَ رَجَعْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَنْتَ أَحَقُّ بِالْإِذْنِ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، إِنَّمَا أَنْتَ عَلَى رُؤُوسِنَا ، مَا نَرَى إِلَّا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْتُمْ ، قَالَ : وَوَضَعَ يَدَهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى رَأْسِهِ .
ترجمہ

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں (بچپن کے عالم میں) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس منبر پر چڑھا اور ان سے کہا: ”آپ میرے والد (رسول اللہ ﷺ) کے منبر سے نیچے اتر آئیے اور اپنے والد کے منبر پر تشریف لے جائیے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (نہایت شفقت سے) فرمایا: ”میرے والد کا تو کوئی منبر تھا ہی نہیں۔“ پھر انہوں نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، اس دوران میں اپنے ہاتھ میں کنکریاں الٹنے پلٹنے لگا؛ جب وہ منبر سے اترے تو مجھے اپنے ہمراہ گھر لے گئے اور دریافت فرمایا: ”تمہیں یہ بات کہنے کا حکم کس نے دیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: ”خدا کی قسم! مجھے اس کا حکم کسی نے نہیں دیا تھا۔“ انہوں نے فرمایا: ”بیٹے! تم ہمارے پاس کثرت سے آیا کرو، تم ہمیں ملنے آیا کرو۔“ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ایک دن میں ان کے پاس حاضر ہوا تو وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت میں (کسی اہم مشورے میں) مصروف تھے، اتنے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور (اندر جانے کی گنجائش نہ پا کر) واپس لوٹ گئے، جب میں نے انہیں واپس جاتے دیکھا تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آگیا۔ اس واقعے کے بعد جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو دریافت فرمایا: ”صاحبزادے! میں نے تمہیں اپنے پاس آتے ہوئے نہیں دیکھا؟“ میں نے عرض کیا: ”میں حاضر ہوا تھا لیکن آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنہائی میں تھے، اسی دوران سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور وہ واپس چلے گئے، جب میں نے انہیں واپس مڑتے دیکھا تو میں بھی لوٹ گیا۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اجازت پانے کے معاملے میں عبداللہ بن عمر سے کہیں زیادہ حقدار ہو، تم تو ہمارے سروں کے تاج ہو؛ ہم نے اللہ عزوجل کے بعد جو بھی عزت و فضیلت دیکھی ہے وہ تم ہی (اہلِ بیت) کی برکت سے دیکھی ہے۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کے سر پر رکھا۔
اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (3/250، رقم: 1262) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3892
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»