المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَهُوَ يَشْتَكِي فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ لَهُ : اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا عُمَرَ ، وَقَدْ عَتَا عَلَيْنَا وَلَا سُلْطَانَ لَهُ ، فَكَيْفَ لَوْ مَلَكَنَا كَانَ أَعْتَى وَأَعْتَى ، فَكَيْفَ تَقُولُ لِلهِ إِذَا لَقِيتَهُ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَجْلِسُونِي فَأَجْلَسُوهُ ، فَقَالَ : أَبِاللهِ تَعْرِفُونِي ؟ قَالَ : أَقُولُ إِذَا لَقِيتُهُ : اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَ أَهْلِكَ .
* رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ (وفات کے) مرض میں مبتلا تھے، اس شخص نے عرض کیا: ”آپ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کو ہم پر خلیفہ مقرر فرما دیا ہے، حالانکہ وہ تو ابھی سے ہم پر سختی کرتے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی اقتدار بھی نہیں ہے، تو ان کا کیا عالم ہوگا جب وہ ہمارے حکمران بن جائیں گے؟ تب تو وہ مزید سخت اور بہت زیادہ تندخو ہو جائیں گے، پس جب آپ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے تو اسے کیا جواب دیں گے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بٹھاؤ۔“ تو لوگوں نے انہیں بٹھا دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں جب اللہ عزوجل سے ملوں گا تو عرض کروں گا: (اے میرے پروردگار!) میں نے تیرے بندوں پر تیری مخلوق میں سے بہترین شخص کو خلیفہ نامزد کیا تھا۔“
اس کے راوی ثقہ ہیں۔