المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا الْمُؤَمَّلُ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : ( نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ ) .
قُلْتُ لِلْمُؤَمَّلِ : أَفِيهِ أُمُّ سَلَمَةَ ؟
فَقَالَ : لَا أَشُكُّ ، كَتَبْتُهُ مِنْهُ أَوَّلًا بِمَكَّةَ .
قُلْتُ : قَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، لَيْسَ فِيهِ أُمُّ سَلَمَةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ عَنْهُمَا ، وَبِسَبَبِ ذَلِكَ [اسْتَثْبَتَ] إِسْحَاقُ الْمُؤَمَّلَ ، فَإِنْ كَانَ الْمُؤَمَّلُ حَفِظَهُ فَالِاخْتِلَافُ فِيهِ مِنْ سُفْيَانَ لَا عَلَيْهِ ، وَاللهُ أَعْلَمُ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے سر کے بال (پیچھے کی طرف) بندھے ہوئے یا جوڑا بنے ہوئے ہوں۔“
میں نے مؤمل سے دریافت کیا کہ کیا اس روایت کی سند میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر موجود ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس میں قطعاً کوئی شک نہیں ہے، میں نے اسے سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ان سے اسی طرح تحریر کیا تھا۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں: اس حدیث کو عبدالرزاق اور وکیع نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے لیکن ان کی روایت میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے ان دونوں اساتذہ کے واسطے سے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے، اور اسی اختلاف کی بنا پر اسحاق نے مؤمل سے اس کی دوبارہ تصدیق چاہی تھی، پس اگر مؤمل نے اسے صحیح طور پر محفوظ کیا ہے تو یہ اختلاف خود سفیان کی اپنی روایت میں ہے (کہ انہوں نے کبھی اسے ام سلمہ سے اور کبھی ان کے بغیر بیان کیا) نہ کہ ان پر کوئی اعتراض ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔