المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ ... الْحَدِيثَ .
وَفِيهِ : يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَلَيْسَ ثَمَّةَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ جَاءَهُ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً ... الْحَدِيثَ . وَفِيهِ : يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مِثْلَهُ .
وَبَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً ... الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَلَيْسَ ثَمَّةَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
قَالَ : وَبَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ خَسَفَ اللهُ تَعَالَى بِهِ ... الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَلَيْسَ ثَمَّةَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
* هَذَا الْحَدِيثُ أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرُهُ مُتَفَرِّقًا ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الشَّهَادَةَ إِلَّا فِي قِصَّةِ الذِّئْبِ ، وَقِصَّةِ الْبَقَرَةِ حَسْبُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے آگ (جہنم) میں داخل ہوئی...“ (مکمل حدیث بیان کی) اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) دیتے ہیں“، حالانکہ اس وقت وہاں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما موجود نہ تھے۔
آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اسی اثنا میں کہ ایک شخص اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بکری اچک لی...“ اور اس میں بھی سابقہ روایت کی طرح یہ مذکور ہے کہ: ”اس واقعے پر ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) گواہی دیتے ہیں۔“
اور اسی طرح ایک اور واقعہ بیان کیا کہ: ”اسی دوران کہ ایک شخص گائے پر سوار تھا...“ اور اس میں بھی یہ ہے کہ: ”اس کی سچائی کی گواہی ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) دیتے ہیں“، حالانکہ اس مقام پر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما موجود نہیں تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی دوران کہ ایک شخص نہایت قیمتی اور عمدہ جوڑے میں ملبوس (بڑے طمطراق سے) چل رہا تھا اور وہ اپنے حال پر اتراتا ہوا خود پسندی میں مبتلا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا...“ اور اس قصے میں بھی یہ مروی ہے کہ: ”اس پر ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) گواہی دیتے ہیں“، حالانکہ اس وقت وہاں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما موجود نہیں تھے۔
اس حدیث کی اصل ’صحیح‘ (بخاری و مسلم) اور دیگر کتبِ حدیث میں متفرق طور پر موجود ہے، لیکن دیگر ائمہ حدیث نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی گواہی کا تذکرہ صرف بھیڑیے اور گائے کے قصے تک محدود رکھا ہے۔