المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3866
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ فِيهَا : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مِنْ خَلْفِي - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے آسمانِ دنیا کی طرف (معراج کے لیے) اوپر لے جایا گیا، پس میں جس آسمان سے بھی گزرا، میں نے وہاں (یہ عبارت لکھی ہوئی) پائی: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ابوبکر صدیق میرے پیچھے (یعنی میرے دستِ راست اور رفیقِ کار) ہیں۔“
اس روایت کی سند میں عبداللہ بن ابراہیم الغفاری اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم نامی راوی موجود ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی فنی حیثیت پر کلام کیا گیا ہے۔