❮
❯
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، ثَنَا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْغَزْوِ ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَابَةٌ مِنْ قِبَلِ النِّسَاءِ ، وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَدَخَلَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرْحَبًا بِرَجُلٍ سَلِمَ وَغَنِمَ ، هَاتِ حَاجَتَكَ ، فَقَالَ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ خَلْفِي - وَهِيَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَ : لَمْ أَعْنِكَ مِنَ النِّسَاءِ ، أَعْنِيكَ مِنَ الرِّجَالِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُوهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
* نَافِعٌ مَتْرُوكٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص غزوے سے واپس آیا، اس کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ خواتین کے واسطے سے رشتہ داری تھی، آپ ﷺ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما تھے، چنانچہ اس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو خوش آمدید ہو جو بخیریت اور مالِ غنیمت کے ساتھ لوٹا ہے، اپنی ضرورت بیان کرو۔“ اس نے دریافت کیا کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ کون عزیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جو میرے پیچھے ہے“ اور اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، اس شخص نے عرض کیا کہ میری مراد خواتین میں سے نہیں بلکہ میں مردوں کے متعلق دریافت کر رہا ہوں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان کے والد (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔“
اس کی سند میں موجود راوی نافع ابو ہرمز متروک ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3863
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: نَافِعٌ مَتْرُوكٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»