المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُخَارِقٌ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَقْسَمْتُ أَنْ لَا أُكَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَأَخِي السِّرَارِ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پر یہ آیتِ مبارکہ ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ﴾ [سورة الحجرات: 3] یعنی ”بے شک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں“ نازل ہوئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اس کے ادب و احترام کے پیشِ نظر) فرمایا: ”میں نے حلفاً یہ عہد کر لیا ہے کہ میں نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کرنے والے شخص کی طرح (انتہائی دھیمی اور پست آواز میں) بات کیا کروں گا۔“
اس روایت کی تخریج امام بزار نے اپنی مسند میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی حصین بن عمر کو ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے۔