المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ حلمه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے حلم کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ سِيجَانٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ ، فَقَامَ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يَرْفَعُ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ ، وَيَضَعُ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ ، وَقَالَ : اجْلِسْ ، فَإِنِّي أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ ، مَا بَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيًّا قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ رَعَى ، قَالَ : قِيلَ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، عَلَى الْقَرَارِيطِ ، وَأَنْصَافِ الْقَرَارِيطِ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّبِيَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ لِابْنِهِ : إِنِّي مُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ . .. الْحَدِيثَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت اس نے «سِيْجَان» (سبز رنگ کے بھاری اونی یا ریشمی کپڑے) کا ایک ایسا جبہ زیب تن کر رکھا تھا جس پر سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے، وہ نبی کریم ﷺ کے سر مبارک کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور (تکبرانہ انداز میں) کہنے لگا: ”آپ کا یہ ساتھی (یعنی محمد ﷺ) ہر چرواہے کے بیٹے کو تو سربلند کر رہا ہے اور ہر شہسوار کے بیٹے کو پست کر رہا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے اس کے جبے کو سامنے کے حصوں سے پکڑا اور اسے کھینچ کر فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں تمہارے جسم پر ایسے شخص کا لباس دیکھ رہا ہوں جس کے پاس عقل نہیں ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی ایسا نبی نہیں مبعوث فرمایا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں، میں نے بھی چند «قَرَارِيْط» (قیراطوں) اور آدھے قیراطوں کی اجرت کے عوض (اہلِ مکہ کی) بکریاں چرائی ہیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا تھا: اے میرے بیٹے! میں تمہیں ایک وصیت کرنے والا ہوں...“ (آخرِ حدیث تک)۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی ”مسند“ میں روایت کیا ہے، اس کے راوی صقعب بن زہیر ثقہ ہیں، اور بکریاں چرانے سے متعلق حصہ صحیح بخاری (2262) میں بھی موجود ہے، جبکہ حضرت نوح علیہ السلام کی وصیت والا حصہ مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں تفصیل سے مروی ہے۔