❮
❯
حدیث نمبر: 3828
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : مَا أَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ قَطُّ ، وَلَا نَاوَلَ يَدَهُ أَحَدًا قَطُّ فَتَرَكَهَا حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَدَعُهَا ، وَمَا جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ قَطُّ فَقَامَ حَتَّى يَقُومَ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھنے والے کسی بھی ہم نشین کے سامنے کبھی بھی اپنے گھٹنے نکال کر (بے تکلفی یا بے نیازی سے) نہیں رکھے، اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی سے مصافحہ کرنے کے لیے اپنا دستِ مبارک اس کے ہاتھ میں دیا ہو اور پھر آپ ﷺ نے خود اس سے اپنا ہاتھ کھینچا ہو جب تک کہ سامنے والا شخص ہی خود اسے نہ چھوڑ دیتا، اور نہ ہی کبھی کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آ کر بیٹھا اور آپ ﷺ (اس کی دلجوئی کی خاطر) اٹھ کر چلے گئے ہوں جب تک کہ وہ خود اٹھ کر نہ چلا جاتا۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3828
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 26182»