المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَلَدِ باب: سورۃ البلد۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ أَيَحْسَبُ أَنْ لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ - يَعْنِي : بِفَتْحِ السِّينِ مِنْ يَحْسَبُ .بنو عامر کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے آپ ﷺ کو یہ آیات تلاوت فرماتے ہوئے سنا: ﴿أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ﴾ [سورة البلد: 5] ”کیا وہ انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قدرت نہ پا سکے گا؟“ اور ﴿أَيَحْسَبُ أَنْ لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ﴾ [سورة البلد: 7] ”کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں ہے؟“ یعنی آپ ﷺ نے لفظ ”يَحْسَبُ“ کو حرفِ سین پر زبر (فتحہ) کے ساتھ تلاوت فرمایا تھا۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس میں صحابیِ رسول ﷺ نے نماز میں نبی کریم ﷺ کی قرأت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آپ ﷺ نے مذکورہ لفظ کو سین کے فتحہ کے ساتھ ادا فرمایا تھا۔