المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ باب: مسجد میں داخل ہونے اور اس سے باہر نکلنے کے وقت کہی جانے والی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 377
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ [أَبَانَ] ، ثَنَا هِشَامٌ - هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ - ، عَنْ يَحْيَى - هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : ( اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ) ، وَإِذَا خَرَجَ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ .
مَوْقُوفٌ ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ جب بھی مسجد میں داخل ہوتے تو نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں سلام عرض کرتے اور پھر یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے اور شیطانِ رجیم کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے تھے“۔
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند میں انقطاع (ٹوٹاؤ) پایا جاتا ہے۔