المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُمْتَحَنَةِ باب: سورہ الممتحنہ۔
حدیث نمبر: 3753
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَتَأَخَّرَتِ امْرَأَتُهُ فِي الْمُشْرِكِينَ ، فَأَنْزَلَ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ - يَقُولُ : إِنْ أَسْلَمَ رَجُلٌ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ ، فَلْيَتَزَوَّجْ إِنْ شَاءَ أَرْبَعًا سِوَاهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا جبکہ ان کی اہلیہ مشرکین کے پاس پیچھے رہ گئیں، اس موقع پر اللہ عزوجل نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10]، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”اگر کوئی مرد اسلام قبول کر لے اور اس کی بیوی (اسلام لانے سے) انکار کر دے، تو وہ شوہر اس عورت کے علاوہ اگر چاہے تو چار نکاح کر سکتا ہے۔“
اس روایت کی سند میں محمد بن السائب الکلبی موجود ہے جو کہ کذاب اور متروک الحدیث راوی ہے، اس لیے یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔