المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَحْقَافِ باب: سورہ احقاف۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ عَادٍ حَمَلَتِ الرِّيحُ أَهْلَ الْبَادِيَةِ بِأَمْوَالِهِمْ ، وَمَوَاشِيهِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَتْهُمْ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ قَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا قَالَ : فَأَكَبَّتِ الْبَادِيَةُ عَلَى الْحَاضِرَةِ .
3714 \ 2 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَحْوَهُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس وقت قومِ عاد (پر عذاب) کا دن آیا، تو تند و تیز ہوا نے بادیہ نشینوں کو ان کے اموال اور مویشیوں سمیت اٹھا لیا؛ پھر جب اس ہوا نے انہیں زمین سے بلند کر کے فضا کی بلندیوں تک پہنچا دیا تو وہ (بادل کو دیکھ کر) کہنے لگے: ﴿هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”یہ بادل تو ہم پر بارش برسانے والا ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس ہوا نے ان صحرا نشینوں کو شہر کے رہنے والوں پر لا کر الٹ دیا“۔
یہ حدیث امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے، اس کی پہلی سند میں محمد بن فضیل عن مسلم بن کیسان الملائی عن مجاہد کا طریق ہے، جبکہ دوسری سند میں احمد بن عمران الاخنسی نے بھی اسے ابن فضیل سے اسی کے مانند نقل کیا ہے۔