المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الدُّخَانِ باب: سورۃ الدخان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ فِي السَّمَاءِ بَابَانِ : بَابٌ يَدْخُلُ عَمَلُهُ مِنْهُ ، وَبَابٌ يَخْرُجُ مِنْهُ عَمَلُهُ وَكَلَامُهُ ، فَإِذَا مَاتَ فَقَدَاهُ ، وَبَكَيَا عَلَيْهِ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ ، فَذَكَرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْمَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ عَمَلًا صَالِحًا ، تَبْكِي عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَصْعَدْ لَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ كَلَامِهِمْ ، وَلَا عَمَلِهِمْ كَلَامٌ طَيِّبٌ ، وَلَا عَمَلٌ صَالِحٌ فَتَفْقِدَهُمْ فَتَبْكِيَ عَلَيْهِمْ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے متعین ہیں؛ ایک وہ دروازہ جس سے اس کا عمل (رزق و خیر کی صورت میں) داخل ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس سے اس کا عمل اور کلام (اوپر کی طرف) نکلتا ہے، پھر جب وہ بندہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ دونوں دروازے اسے مفقود پاتے ہیں اور اس پر روتے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ﴾ [سورة الدخان: 29]، اور آپ ﷺ نے تذکرہ فرمایا کہ ”وہ (کفار) زمین پر کوئی ایسا نیک عمل نہیں کرتے تھے کہ وہ زمین ان پر روتی، اور نہ ہی آسمان کی طرف ان کا کوئی پاکیزہ کلام یا نیک عمل بلند ہوتا تھا کہ وہ آسمان انہیں مفقود پا کر ان پر گریہ و زاری کرتا۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور امام بخاری و امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ دیگر اسناد سے روایت کیا ہے۔