❮
❯
حدیث نمبر: 371
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ فَيَّاضِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ [ رَفَعَهُ ] - : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَيُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ جِيرَانِي ؟ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : رَبَّنَا ، وَمَنْ يَنْبَغِي أَنْ يُجَاوِرَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْنَ عُمَّارُ الْمَسَاجِدِ . ؟ "
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن پکار کر فرمائے گا: میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ تب فرشتے عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! آپ کی ہمسائیگی کا شرف حاصل کرنا کس کے لیے موزوں اور زیبا ہے؟ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرمائے گا: مسجدوں کو آباد کرنے والے کہاں ہیں؟“
مسند الحارث: 371، اس کی سند میں موجود راوی محمد بن عطیہ کے بارے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں، تاہم اس روایت کا معنی و مفہوم شریعت کے دیگر نصوص کے عین مطابق ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :ضعيف؛ لعلة التفرد وضعف/جهالة حال "محمد بن عطية". »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»