المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي فَضْلِ مُلَازَمَةِ الْمَسْجِدِ باب: مسجد کی پابندی کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لَمْ يَرْفَعْهُ - قَالَ : ( مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَطَّنُ الْمَسَاجِدَ فَيَحْبِسُهُ عَنْهَا مَرَضٌ أَوْ عِلَّةٌ ثُمَّ عَادَ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللهُ بِهِ ) الْحَدِيثَ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ [ مَرْفُوعًا ] أَخْصَرَ مِنْهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غیر مرفوع روایت میں) مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کوئی بھی ایسا شخص جو مساجد کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لے (یعنی وہاں کثرت سے ذکر و عبادت کے لیے قیام کا عادی ہو جائے)، پھر اسے کسی بیماری یا کسی عذر نے مسجد میں حاضر ہونے سے روک دیا ہو اور وہ (صحت یاب ہو کر) دوبارہ مسجد کی طرف لوٹے، تو اللہ تعالیٰ اس کی واپسی پر اس طرح خوشی اور مسرت کا اظہار فرماتا ہے (جیسے کسی گمشدہ یا مسافر کی گھر واپسی پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں)۔“
یہ روایت موقوفاً صحیح ہے، اور ابن ابی ذئب نے اسے سعید کے واسطے سے مرفوعاً (نبی کریم ﷺ کے فرمان کے طور پر) بھی روایت کیا ہے جو اس سے زیادہ مختصر ہے۔