المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي فَضْلِ مُلَازَمَةِ الْمَسْجِدِ باب: مسجد کی پابندی کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدًا لِلصَّلَاةِ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
368 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا [ دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ] ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبِيبٍ - هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ يَقْضِي - أَيْ يَمُوتُ - فِي مَسْجِدِهِ ، فَقُلْتُ : لَوْ تَحَوَّلْتَ إِلَى فِرَاشِكَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ، فَذَكَرَهُ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَأُرِيدُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا فِي مَسْجِدِي .سیدنا ابوعبدالرحمٰن السلمی رحمہ اللہ ایک صحابیِ رسول سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی جاۓ نماز پر بیٹھا رہے یا محض نماز کی خاطر مسجد میں داخل ہو، تو جب تک وہ اپنی اس بیٹھنے کی جگہ پر موجود رہتا ہے فرشتے مسلسل اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ بے وضو نہ ہو جائے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔““
عطاء بن سائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن حبیب کے پاس اس وقت حاضر ہوئے جب وہ اپنی جائے نماز پر حالتِ نزع میں تھے، میں نے عرض کیا: کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ اپنے بستر پر تشریف لے جاتے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے حدیث سنائی جس نے اسے خود نبی کریم ﷺ سے سنا تھا، پھر انہوں نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور آخر میں یہ اضافہ کیا: ”چنانچہ میں یہی چاہتا ہوں کہ مجھے موت اس حال میں آئے کہ میں اپنی جائے نماز پر ہی موجود ہوں۔“