المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي فَضْلِ مُلَازَمَةِ الْمَسْجِدِ باب: مسجد کی پابندی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 367
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، ثَنَا سَعِيدٌ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْضَلُ الرِّبَاطِ انْتِظَارُ الصَّلَاةِ ، وَلُزُومُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي ثُمَّ يَقْعُدُ فِي مُصَلَّاهُ إِلَّا لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى يُحْدِثَ أَوْ يَقُومَ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”افضل ترین رباط (یعنی اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور دین پر ثابت قدمی) ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور ذکر کی محافل کو لازم پکڑنا ہے، اور جو بندہ بھی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے مسلسل دعائے خیر و مغفرت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بے وضو ہو جائے یا وہاں سے اٹھ جائے۔“
اس حدیث کی سند میں موجود راوی محمد بن ابی حمید المدنی ضعیف ہے، تاہم نماز کے انتظار اور فرشتوں کی استغفار کے متعلق دیگر صحیح احادیث میں شواہد موجود ہیں۔