المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الشُّعَرَاءِ باب: سورۃ الشعراء۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عُمَرَ الْأَيْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ ، مَوْلَاةِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَتْ : إِنَّهَا سَمِعَتِ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ - صَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ : يَا آلَ عَبْدِ مَنَافٍ ، إِنِّي نَذِيرٌ فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ ; فَحَذَّرَهُمْ وَأَنْذَرَهُمْ ، فَقَالُوا : تَزْعُمُ أَنَّكَ نَبِيٌّ يُوحَى إِلَيْكَ ، وَأَنَّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سُخِّرَ لَهُ الرِّيحُ وَالْجِبَالُ ، وَأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سُخِّرَ لَهُ الْبَحْرُ ، وَأَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى ، فَادْعُ اللهَ تَعَالَى : أَنْ سَيَّرَ عَنَّا هَذِهِ الْجِبَالَ ، وَيُفَجِّرَ لَنَا أَنْهَارًا ، فَنَتَّخِذَهَا مَخَايِضَ فَنَزْرَعَ وَنَأْكُلَ وَإِلَّا فَادْعُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُحْيِيَ لَنَا مَوْتَانَا فَنُكَلِّمَهُمْ وَيُكَلِّمُونَا ، وَإِلَّا فَادْعُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُصَيِّرَ لَنَا هَذِهِ الصَّخْرَةَ الَّتِي تَحْتَكَ ذَهَبًا ، فَنَحُتُّ مِنْهَا وَتُغْنِينَا عَنْ رِحْلَةِ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، فَإِنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ كَهَيْئَتِهِمْ . فَبَيْنَا نَحْنُ حَوْلَهُ ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِمَاتُ الْوَحْيِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي مَا سَأَلْتُمْ وَلَوْ شِئْتُ لَكَانَ ، وَلَكِنَّهُ جَلَّ وَعَلَا خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ تَدْخُلُوا فِي بَابِ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ ، وَبَيْنَ أَنْ يَكِلَكُمْ إِلَى مَا اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَةِ فَلَا يُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ فَاخْتَرْتُ بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ ، وَأَخْبَرَنِي إِنْ أَعْطَاكُمْ ذَلِكَ ، ثُمَّ كَفَرْتُمْ أَنْ يُعَذِّبَكُمْ عَذَابًا شَدِيدًا لَمْ يُعَذِّبْهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَنَزَلَتْ : وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ - إِلَى ثَلَاثِ آيَاتٍ ، وَنَزَلَتْ : وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ الْآيَةَ .سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ عزوجل کا یہ فرمان ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے جبلِ ابو قبیس پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا: ”اے اولادِ عبدِ مناف! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔“ پس قریش آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں (برے انجام سے) خبردار کیا اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرایا۔ انہوں نے (بزعمِ خود اعتراضاً) کہا: ”آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نبی ہیں جن پر وحی نازل ہوتی ہے، اور بے شک سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا اور پہاڑ مسخر کر دیے گئے تھے، موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر مسخر کر دیا گیا تھا، اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیتے تھے؛ لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان پہاڑوں کو ہم سے دور ہٹا دے اور ہمارے لیے نہریں جاری کر دے تاکہ ہم انہیں گزرگاہوں کے طور پر استعمال کریں، پھر ہم کھیتی باڑی کریں اور کھائیں، ورنہ اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ ہمارے مردوں کو زندہ کر دے تاکہ ہم ان سے کلام کریں اور وہ ہم سے کلام کریں، اور اگر یہ بھی نہیں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس چٹان کو جس پر آپ کھڑے ہیں سونے میں تبدیل کر دے تاکہ ہم اسے تراش سکیں اور وہ ہمیں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں سے بے نیاز کر دے، کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ان انبیاء جیسے ہی ہیں۔“ ابھی ہم آپ ﷺ کے گرد موجود ہی تھے کہ آپ ﷺ پر وحی کی علامات ظاہر ہوئیں، جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ سب عطا فرما دیا تھا جو تم نے مانگا ہے اور اگر میں چاہتا تو وہ ہو جاتا، لیکن اللہ جل شانہٗ نے مجھے دو باتوں کے درمیان اختیار دیا: یا تو یہ کہ تم رحمت کے دروازے میں داخل ہو جاؤ اور تم میں سے ایمان لانے والے ایمان لے آئیں، یا پھر یہ کہ وہ تمہیں تمہاری اپنی پسند پر چھوڑ دے تو تم رحمت کے دروازے سے بھٹک جاؤ اور تمہارے ایمان لانے والے بھی ایمان نہ لائیں؛ تو میں نے رحمت کے دروازے کو پسند کیا تاکہ تم میں سے ایمان لانے والے ایمان لے آئیں۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ اگر وہ تمہیں یہ مطالبات پورے کر کے دے دے اور پھر تم نے کفر کیا، تو وہ تمہیں ایسا سخت عذاب دے گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا گیا ہوگا۔“ پس یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ﴾ [سورة الإسراء: 59] اگلی تین آیات تک، اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ﴾ [سورة الرعد: 31]۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی عبدالجبار بن عمر الایلی ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کے شواہد دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔