المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الشُّعَرَاءِ باب: سورۃ الشعراء۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِيَدِهِ وَلِسَانِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَكَأَنَّمَا تَقْتَحِمُونَ بِالنَّبْلِ .سیدنا عبید اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے (مؤمن شعراء کی اہمیت واضح کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”بے شک مؤمن (دین کی خاطر) اپنے ہاتھ اور اپنی زبان دونوں کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! (تمہارے یہ اشعار کفار کے خلاف) ایسے ہی کاٹ دار ہیں گویا کہ تم ان پر تیروں سے حملہ آور ہو رہے ہو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں صالح بن ابی الاخضر راوی کے حافظے کی بنا پر کلام ہے، تاہم اس کے شواہد صحیح روایات میں موجود ہیں۔