المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْكَهْفِ باب: سورۂ کہف۔
فَحَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سِتْرًا بِنَاءً . لَمْ يُبْنَ فِيهَا بِنَاءٌ قَطُّ . وَلَمْ يُبْنَ عَلَيْهِمْ فِيهَا بِنَاءٌ قَطُّ ، كَانُوا إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، دَخَلُوا أَسْرَابًا لَهُمْ ، حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ .سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک ایسی قوم کے احوال بیان کرتے ہوئے جن کا ذکر قرآن میں ہے) ارشاد فرمایا: ”ان کے پاس (دھوپ سے بچنے کے لیے) کوئی تعمیراتی اوٹ یا مکان نہ تھا، اس سرزمین میں سرے سے کبھی کوئی عمارت تعمیر ہی نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی ان لوگوں پر وہاں کبھی کوئی چھت ڈالی گئی تھی؛ ان کی کیفیت یہ تھی کہ جب سورج طلوع ہوتا تو وہ اپنی بنائی ہوئی زمین دوز سرنگوں میں داخل ہو جاتے اور وہاں تب تک مقیم رہتے جب تک سورج ڈھل نہ جاتا۔“
یہ حدیث المستدرک للحاکم میں مروی ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جس کی امام ذہبی نے بھی موافقت کی ہے۔