المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الرَّعْدِ باب: سورۂ رعد۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، فِي قَوْلِهِ ( تَعَالَى ) : يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ قَالَ : يَمْحُو اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَشَاءُ مِنَ الْأَشْيَاءِ مِنَ الْأَصْلِ ، وَيَزِيدُ فِيهِ مَا يَشَاءُ ، قُلْتُ لَهُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : أَبُو صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
( 151 ) وَحَدِيثُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فِي نُزُولِ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39] کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اشیاء کی اصل (یعنی لوحِ محفوظ) سے جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور اس میں جو چاہتا ہے اضافہ فرما دیتا ہے۔“ (راویِ حدیث ہشام کہتے ہیں کہ) میں نے کلبی سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے ابوصالح نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کی کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جو اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ﴾ [سورة الرعد: 31] کے شانِ نزول کے بارے میں ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ سورۃ الشعراء کی تفسیر میں آئے گی۔