المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ يُوسُفَ باب: سورہ یوسف۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ ، وَالْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَنَسَخْتُهُ مِنْ كِتَابِ زَكَرِيَّا وَهُوَ لَفْظُهُ ، قَالُوا : أَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ( نُسَابِيٌّ ) ( الْيَهُودِيُّ ) ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي عَنِ النُّجُومِ الَّتِي رَآهَا يُوسُفُ سَاجِدَةً لَهُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ ، مَا اسْمُهَا ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِشَيْءٍ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ( عَلَيْهِ السَّلَامُ ) فَأَخْبَرَهُ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ( نُسَابِيٍّ ) الْيَهُودِيِّ فَقَالَ لَهُ : أَتُسْلِمُ إِنْ أَنْبَأْتُكَ بِأَسْمَائِهَا ؟ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ ( خِرْبَانُ ) ، وَالذَّيَّالُ ، وَالطَّارِقُ ، وَاللِّسَانُ ، وَقَايِسُ ، وَوَثَّابٌ ، وَعَمُودَانِ ، وَالْفَيْلَقُ ، وَالْمُصَبِّحُ ، وَالصَّرُوحُ ، وَذُو الْفَرَعِ . قَالَ : يَقُولُ ( نُسَابِيٌّ ) وَاللهِ إِنَّهَا أَسْمَاؤُهَا . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا رَآهَا يُوسُفُ ( عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ) قَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ : أَمْرٌ مُشَتَّتٌ يَجْمَعُهُ اللهُ مِنْ بَعْدُ ، قَالَ : وَالشَّمْسُ أَبُوهُ ، وَالْقَمَرُ أُمُّهُ .
أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى عَنِ السُّدِّيِّ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے نسابی نامی ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! مجھے ان ستاروں کے بارے میں بتائیں جنہیں سیدنا یوسف علیہ السلام نے آسمان کے افق پر اپنے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، ان کے نام کیا ہیں؟ اللہ کے نبی ﷺ نے اس دن اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے نسابی یہودی کو بلوا بھیجا اور دریافت فرمایا: ”اگر میں تمہیں ان کے نام بتا دوں تو کیا تم مسلمان ہو جاؤ گے؟“ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ستارے یہ ہیں: «خِرْبَانُ» ”خربان“، «الذَّيَّالُ» ”ذیال“، «الطَّارِقُ» ”طارق“، «اللِّسَانُ» ”لسان“، «قَايِسُ» ”قیس“، «وَثَّابٌ» ”وثاب“، «عَمُودَانِ» ”عمودان“، «الْفَيْلَقُ» ”فیلق“، «الْمُصَبِّحُ» ”مصبح“، «الصَّرُوحُ» ”صروح“ اور «ذُو الْفَرَعِ» ”ذو الفرع“۔“ اس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! یہی ان کے نام ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے وہ خواب دیکھا تو اسے اپنے والد سے بیان کیا، تو ان کے والد نے ان سے فرمایا: یہ ایک بکھرا ہوا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ بعد میں اکٹھا فرما دے گا، اور سورج ان کے والد جبکہ چاند ان کی والدہ کی جگہ تھا۔“
اسے امام حاکم نے سدی کے طریق سے دوسری سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔