المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، قَالَ : ( رَحَلْتُ إِلَى ) عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ قَالَتْ : هُوَ مَا يُصِيبُكُمْ فِي الدُّنْيَا .سیدنا ابو المہلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اس آیت مبارکہ ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] کی تفسیر دریافت کرنے کے لیے سفر کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس بدلے سے مراد وہ مصائب، بیماریاں اور تکالیف ہیں جو تمہیں دنیا ہی میں پہنچتی ہیں (تاکہ وہ تمہارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں)“۔
حدیث نمبر 3584: امام اسحاق بن راہویہ نے کہا: ہمیں سلیمان بن حرب نے خبر دی، انہوں نے حماد بن زید سے، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے ابو المہلب سے یہ روایت نقل کی ہے۔