المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ باب: سورہ آلِ عمران۔
حدیث نمبر: 3564
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، ثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْقَارِئُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ : ( وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغَلَّ ) بِفَتْحِ الْغَيْنِ ، فَقَالَ لِي : قَدْ جَازَ لَهُ أَنْ يَغَلَّ وَأَنْ ( يَقْتُلَ ) ، إِنَّمَا هِيَ أَنْ يَغُلَّ ( يَعْنِي ) بِضَمِّ الْغَيْنِ وَمَا كَانَ اللهُ ( عَزَّ وَجَلَّ ) لِيَجْعَلَ نَبِيًّا غَالًّا .ترجمہ
ابو عبد الرحمن السلمی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: ”بے شک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آیتِ مبارکہ ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغَلَّ﴾ [سورة آل عمران: 161] کو حرفِ ’غین‘ کے زبر (فتحہ) کے ساتھ پڑھتے ہیں“، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”ایک نبی کے لیے یہ تو ممکن ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ و خیانت کی جائے یا اسے شہید کر دیا جائے، لیکن اصل قرات «أَنْ يَغُلَّ» ہے یعنی ’غین‘ کے پیش (ضمہ) کے ساتھ، کیونکہ اللہ عزوجل کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی نبی کو خیانت کرنے والا بنائے۔“
اس حدیث کی تخریج امام احمد بن منیع نے کی ہے۔