المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ باب: سورہ آلِ عمران۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ قِصَّةً عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِأَوَّلِ بَيْتٍ كَانَ ، وَقَدْ كَانَ نُوحٌ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، فَكَانُوا فِي الْبُيُوتِ ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ فِي الْبُيُوتِ ، وَلَكِنَّهُ أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا .
3556 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهِخالد بن عرعرہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک واقعہ ذکر کیا جس میں آپ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمانِ باری تعالیٰ ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ﴾ [سورة آل عمران: 96] کے متعلق فرمایا: ”یاد رکھو! یہ دنیا میں تعمیر ہونے والا سب سے پہلا مکان نہیں تھا، کیونکہ سیدنا نوح «عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ» ”ان پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو“ تو سیدنا ابراہیم «عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ» ”ان پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو“ سے بہت عرصہ قبل گزرے ہیں اور لوگ (ان کے عہد میں بھی) گھروں میں رہا کرتے تھے، اور خود سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی گھروں میں مقیم رہے، بلکہ (آیت کا مطلب یہ ہے کہ) یہ وہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے (بطورِ قبلہ و عبادت گاہ) مقرر کیا گیا، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: ﴿مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ * فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾ [سورة آل عمران: 96-97] یعنی وہ برکت والا اور تمام جہان والوں کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے، اس میں واضح نشانیاں ہیں (منجملہ ان کے) مقامِ ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہو گیا وہ امن والا ہو گیا۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ اور امام حارث نے اپنی مسانید میں حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔