المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3552
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرٍو ، ( عَنْ ) سَعْدٍ ، أَوْ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَعْقِلُ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الْآيَاتِ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ .ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں کسی بھی ایسے صاحبِ عقل و دانش انسان کے متعلق یہ تصور نہیں کر سکتا کہ وہ سورۃ البقرہ کی آخری آیات ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة البقرة: 285-286] کی تلاوت کیے بغیر سو جائے، کیونکہ یہ آیات عرشِ الٰہی کے نیچے موجود ایک خاص خزانے سے عطا کی گئی ہیں۔“
اس اثر کو امام مسدد نے روایت کیا ہے جس کی سند میں یحییٰ، شعبہ اور ابو اسحاق کے واسطے سے راوی کو سعد یا سعید کے نام میں شک ہوا ہے، یہ روایت ان آیات کی عظیم الشان فضیلت اور مومن کے لیے ان کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔