المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ قَالَ أُسَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ( فَغَشِيَتْنِي ) مِثْلُ ( السَّحَابَةِ ) فِيهَا الْمَصَابِيحُ ، وَامْرَأَتِي نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِي وَهِيَ حَامِلٌ ، وَالْفَرَسُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَنْفِرَ الْفَرَسُ فَتَفْزَعَ الْمَرْأَةُ فَتُلْقِي وَلَدَهَا ، فَانْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْتُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ أُسَيْدُ ، ذَلِكَ مَلَكٌ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ .
قُلْتُ : رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا ، وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَالنَّسَائِيُّ فِي الْكُبْرَى مِنْ مُسْنَدِ أُسَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات نماز ادا کر رہے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ ”اچانک مجھ پر بادل کی مانند ایک سایہ سا چھا گیا جس میں چراغوں کی مانند روشنیاں تھیں، اس وقت میری زوجہ میرے پہلو میں سو رہی تھیں اور وہ امید سے تھیں، جبکہ گھر کے صحن میں گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں گھوڑا بدک نہ جائے اور میری اہلیہ گھبرا کر حمل ضائع نہ کر دیں، چنانچہ میں نے اپنی نماز ختم کر دی۔ جب صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اسید! تم پڑھتے رہتے، وہ تو فرشتہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت سن رہا تھا۔““
میں کہتا ہوں کہ اسے امام بخاری نے تعلیقاً، جبکہ امام مسلم اور امام احمد نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور امام نسائی نے اسے اپنی کتاب 'السنن الکبریٰ' میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مسند میں بیان کیا ہے۔