المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُ مُصِيبَتَهُ بَعْدَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَيُحْدِثُ لَهَا اسْتِرْجَاعًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَ ذَلِكَ مِثْلَ مَا أَعْطَى يَوْمَ أُصِيبَ . "سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان کسی ایسی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہو جائے، پھر چالیس سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی وہ اپنی اس مصیبت کو یاد کرے اور اسے یاد آنے پر کلمہٴ استرجاع «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ زبان پر لائے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اس وقت بھی ویسا ہی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے جیسا اس نے اس دن عطا کیا تھا جس دن وہ پہلی بار اس مصیبت میں مبتلا ہوا تھا۔“
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ہشام بن زیاد اور علی بن زید بن جدعان موجود ہیں جو کہ علمِ حدیث میں ضعیف راوی شمار ہوتے ہیں۔