المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَقْبَلَهُ مِنَ الشَّامِ عَنِ الْإِيمَانِ ، فَقَرَأَ : لَيْسَ الْبِرَّ الْآيَةَ
( 142 ) وَلَهُ طَرِيقٌ أُخْرَى فِي الْإِيمَانِ .سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ان کی شام سے واپسی کے موقع پر ایمان کی حقیقت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے جواباً یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ﴾ [سورة البقرة: 177] جس کا مفہوم ہے کہ: ”نیکی محض یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، اللہ کی کتاب پر اور تمام نبیوں پر ایمان لائے۔“
(142) اور ایمان کے متعلق اس روایت کی ایک دوسری سند (طریق) بھی مروی ہے۔