المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا باب: مسجد تعمیر کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّحَّانُ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذِهِ الْمَسَاجِدُ الَّتِي بِطَرِيقِ مَكَّةَ ؟ قَالَ : " وَتِلْكَ " .
353 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ كَثِيرٍ الْمُؤَدِّبِ ، بِهِ . وَفِيهِ : " وَلَوْ قَدْرَ مِفْحَصِ قَطَاةٍ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے (اللہ کی خوشنودی کی خاطر) کوئی مسجد تعمیر کی، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لیے جنت میں ایک عالیشان گھر تیار فرمائے گا۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ مساجد بھی (اسی ثواب کی مستحق ہیں) جو مکہ مکرمہ کے راستے میں تعمیر کی گئی ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، وہ بھی (اسی فضیلت میں شامل) ہیں۔“
امام ابن ابی عمر نے مروان کے واسطے سے کثیر المؤدب سے یہی روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”خواہ وہ (مسجد مقدار میں) قطعہ نامی پرندے کے گھونسلے (انڈے دینے کی جگہ) کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔“